حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ادارہ تحقیقات علوم و ثقافت اسلامی کے سربراہ حجت الاسلام والمسلمین نجف لک زایی نےقم المقدسہ میں مجمع جهانی اهل بیت (ع) کے اجلاس ہال میں "کتاب امتداد مکتب امامین انقلاب با رہبری آیت اللہ حضرت سید مجتبی حسینی خامنہ ای" کے جائزے کے سلسلہ میں منعقدہ ایک نشست میں اسلامی نظام میں رہبری کے اہم مقام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: یہ مقام الہی انبیاء اور اہل بیت علیہم السلام کی تحریک کا تسلسل ہے۔
انہوں نے سورہ شوریٰ کی آیت نمبر 13 «شَرَعَ لَکُمْ مِنَ الدِّینِ مَا وَصَّیٰ بِهِ نُوحًا وَالَّذِی أَوْحَیْنَا إِلَیْکَ وَمَا وَصَّیْنَا بِهِ إِبْرَاهِیمَ وَمُوسَیٰ وَعِیسَیٰ أَنْ أَقِیمُوا الدِّینَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِیهِ ۚ کَبُرَ عَلَی الْمُشْرِکِینَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَیْهِ ۚ اللَّهُ یَجْتَبِی إِلَیْهِ مَنْ یَشَاءُ وَیَهْدِی إِلَیْهِ مَنْ یُنِیبُ» سے استناد کرتے ہوئے کہا: ہمارے رہبر کسی بھی چیز سے پہلے "قرآنی رہبر" ہہیں اور وہ مکتب اسلام کو الہی تعلیمات کے دائرے میں بیان کرتے ہیں۔
ادارہ تحقیقات علوم و ثقافت اسلامی کے سربراہ نے امت اسلامی کی رہبری کے عالمگیر ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: قرآن کریم اور روایات کی روشنی میں، امت اسلامی کی رہبری صرف ایک ملک کی سرحد تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ عالمی سطح پر دین کے پیروکاروں کی رہنمائی کے لیے ایک ماورائے سرحدی معاملہ ہے۔









آپ کا تبصرہ